تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی اور حقائق -جاوید شیخ

ہم وہ قوم ہیں کہ جب بھی کوئی سیکنڈل سامنے آتا ہے، کوئی کرب ناک واقعہ پیش آتا ہے، ہم کھل کر اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے اخبارات اداریے چھاپتے ہیں، الیکٹرانک میڈیا پر پروگرام ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلتے ہیں۔ کچھ دن بعد ہم سب بھول جاتے ہیں یا شاید یوں کہا جائے کہ کسی اور واقعے کے منتظر ہوتے ہیں کہ اپنی فرسٹریشن کا غصہ نکال سکیں۔ ہم نے کسی بھی مسئلے پر سنجیدہ مکالمہ ہی نہیں کیا، حل تو دور کی بات ہے۔

ایسا ہی انداز اور رویہ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کا بھی ہے جو آج کل اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا سیکنڈل سامنے آنے کے بعد ہر جگہ زیر بحث ہے۔ اس ضمن میں چند سوالوں پر غور کرنا لازم ہے۔ مثلاً تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی کیا شکلیں ہیں؟ پوری دنیا اور پاکستان میں اس کے اعداد و شمار کیا ہیں؟

کیا سوسائٹی کے دوہرے رویے اس کے حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں؟ اس کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ان سوالوں کے عملی جواب تلاش کرنے کے لیے ایک سنجیدہ مکالمے کا آغاز ضروری ہے کہ اس گھٹیا صورت حال کے خاتمے کو کیسے یقینی بنایا جائے۔

( 1 ) تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کی نوعیت اور نتائج

ایسا کوئی بھی ناپسندیدہ جنسی رویہ، پیش قدمی یا طرز عمل جو تعلیمی ماحول میں شامل افراد کے لیے ذہنی کوفت اور شدید مایوسی کے احساسات کو جنم دے، جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ جنسی طور پر ہراساں کرنا طلباء اور طلباء کے اپنے درمیان، طلباء اور فیکلٹی کے درمیان، طلباء اور انتظامی عملے کے درمیان، یا فیکلٹی اور انتظامی عملے کے اراکین کے درمیان ہو سکتا ہے۔ جنسی ہراسانی مختلف شکلوں میں ظاہر ہو سکتی ہے، جس میں نامناسب تبصرے، لطیفے، اشارے، ناپسندیدہ پیش قدمی، دھونس دھاندلی، بلیک میلنگ یا جنسی نوعیت کا کوئی ایسا رویہ شامل ہو سکتا ہے جو دوسروں کی ذاتی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہو۔

جنسی طور پر ہراساں ہونے والے شخص کی زندگی پر شدید جذباتی اور نفسیاتی نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جو آخرکار متعلقہ فرد کے تعلیمی کیرئیر کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ شخصی سطح پر خوف، شرم، اضطراب اور افسردگی کے جذبات کا باعث بن سکتا ہے۔ متاثرین کی تعلیمی کارکردگی میں کمی، ادارے سے مسلسل غیر حاضری، یا یہاں تک کہ سٹڈیز کا خاتمہ اور بعض اوقات خود کشی کی صورت میں اس کے نتیجے سامنے آتے ہیں۔

( 2 ) تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے اعداد و شمار

ایسوسی ایشن آف امریکن یونیورسٹیز کے ایک سروے کے مطابق، تقریباً 23 ٪ انڈر گریجویٹ طالبات نے کالجز میں اپنی سٹڈیز کے دوران زبردستی یا معذوری کے ذریعے غیر متفقہ جنسی تعلق کا سامنا کیا۔ 2019 کے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے سے پتا چلتاہے کہ 56 % امریکی بالغوں کا خیال ہے کہ ہائر سیکنڈری سکلولز میں جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یورپین انسٹی ٹیوٹ فار جینڈر ایکیولٹی کے ایک سروے سے پتا چلتاہے کہ یورپی یونین میں 15۔70 سال کی عمر کی 35 % خواتین کو 15 سال کی عمر سے ہی کسی نہ کسی قسم کے جنسی ہراسانی کے عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یورپین یونین ایجنسی فار فنڈامنٹل رائٹس کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 15۔ 17 سال کی عمر کے 59 % طلباء نے اسکول میں لڑکیوں یا خواتین کے بارے میں جنس پرستانہ تبصرے سنے تھے، اور

14 % نے غیر مطلوبہ جنسی حوالے سے چھونے یا جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی اطلاع دی تھی۔ جب کہ ایکشن ایڈ انڈیا کے 2018 میں کرائے گئے ایک سروے سے پتا چلتاہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں 52 % لڑکیوں نے جنسی ہراسانی کا سامنا کیا۔

خواتین اور بچوں کی ترقی کی بھارتی وزارت کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 54 فیصد طلباء کو کسی نہ کسی شکل میں جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح ورلڈ بینک اینڈ اکنامک کمیشن فار افریقہ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ افریقی یونیورسٹیوں میں جنسی طور پر ہراساں کرنا ایک اہم مسئلہ ہے، جس کے واقعات مختلف ممالک میں 25 % سے 67 % کے درمیان ہیں۔ جب کہ پاکستان میں عورت فاؤنڈیشن کے 2017 کے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ تقریباً 66 % طالبات اور 49 % مرد طالب علموں نے تعلیمی اداروں میں کسی نہ کسی طرح کے جنسی ہراساں کیے جانے کی اطلاع دی۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ یہ اعداد و شمار مکمل نہیں ہیں، اور انڈر رپورٹنگ اور ثقافتی عوامل کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کا اصل پھیلاؤ زیادہ یا کم ہو سکتا ہے۔

( 3 ) مذہبی تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے اعداد و شمار

جنسی ہراسانی مذہبی تعلیمی اداروں میں بھی ہو سکتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے یہ کسی بھی دوسری قسم کی تعلیمی اداروں میں ہو سکتی ہے اور اس کے کیسز بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ مذہبی تعلیمی ادارے، کسی بھی دوسری تنظیم کی طرح، طاقت کی حرکیات، صنفی اصولوں، ثقافتی عوامل، اور ادارہ جاتی مسائل سے متاثر ہو سکتے ہیں جو جنسی ہراسانی کے واقعات میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ لیکن اس پر کبھی کوئی باقاعدہ سروے یا سٹڈی نہیں ہوئی کہ بتایا جا سکے کہ اصل اعداد و شمار کیا ہیں۔

( 4 ) تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کی غلط رپورٹنگ

ترقی یافتہ ممالک کے برعکس تیسری دنیا کے ممالک جہاں قانون کمزور اور طاقتور کے لیے بظاہر مختلف نظر آتا ہے، میں جنسی ہراسانی کے بہت سے کیسز غلط رپورٹ ہوتے ہیں جن کی نوعیت کیس ٹو کیس تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی جھوٹی رپورٹوں میں مختلف محرکات ہوسکتے ہیں۔ کچھ افراد ذاتی شکایات، جذباتی تکالیف، یا دیگر وجوہات کی بنا پر غلط رپورٹیں دے سکتے ہیں۔ غلط رپورٹوں اور حقیقی غلط فہمیوں یا غلط تشریحات کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔

پروفیشنل آراء کا مختلف ہونا عداوت میں بدل جاتا ہے۔ ایک ہی ادارے میں کام کرنے والے ذاتی رنجش میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے کسی کو بلیک میل کرنے کے لیے بھی جنسی ہراسانی کا الزام لگانا بھی رپورٹ ہو رہا ہے۔ کیوں کہ ہمارے ہاں جنسی ہراسانی کے کیس چاہیے سچے ہوں یا جھوٹے، یا تو وہ منطقی انجام کو نہیں پہنچتے یا ان کا فیکٹ فائنڈنگ پروسس اتنا سست ہے کہ جب سچ لوگوں تک پہنچنے کے لیے تسمے باندھ رہا ہوتا ہے، جھوٹ پورے معاشرے کے گرد پانچ سات چکر لگا چکا ہوتا ہے۔ ایم اے او کالج لاہور کے پروفیسر محمد افضل کی خود کشی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہاں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی ایماندار آدمی کسی بھی طرح سے پکڑ نہیں دے رہا تو پھر جنسی ہراسانی سے بلیک میل کیا جاتا ہے۔

( 5 ) تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی اور سوسائٹی کے دوہرے رویے

تعلیمی اداروں میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے حوالے سے دوہرے معیارات اس بات میں تضادات اور تعصبات کی عکاسی کرتے ہیں کہ معاشرہ ہراساں کیے جانے کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے۔ عمومی معاشرے کی طرح تعلیمی اداروں میں بھی عزیز و اقارب کی کوشش ”مٹی پانے“ جیسے رویوں کی طرح ہوتی ہے۔ یا عمومی رویہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہراساں ہونے والا خود عجیب و غریب تبصروں کی زد میں آ جاتا ہے۔ اسی بدنامی کے ڈر سے قصوروار اور بے قصور دونوں کیسز میں ہمیشہ شفاف تحقیقات منطقی انجام تک نہیں پہنچ پاتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ نو ٹالرنس کی پالیسی اپناتے ہوئے اس پر ہمیشہ کے لیے فل سٹاپ لگائے۔

( 6 ) تعلیمی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش

تیسری دنیا کے ممالک میں پروفیشنلزم سے زیادہ کمرشل ازم نے زور پکڑا ہے۔ اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر دولت کی ہوس میں کسی کے کتنے ہی بڑے نقصان کی بجائے، ذاتی فائدے نے پروپیگنڈے کے نئے رجحان متعارف کروائے ہیں۔ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جنسی ہراسانی کو پروپیگیٹ کر کے اپنا کمرشل فائدہ اٹھایا جائے۔ جس کے نتیجے میں مخصوص تعلیمی ادارے بڑی مالی منفعت حاصل کر سکتے ہیں۔ ترقی پسند اور قدامت پسند کے تصادم کے چکر میں تعلیمی اداروں میں ہراسانی کا سارا بوجھ مخلوط تعلیم پر ڈال دینا بھی اس کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔ اس ساری صورت حال کا براہ راست نقصان بچیوں کی تعلیم پر پڑے گا۔

( 7 ) تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی پر قابو کیسے پایا جائے؟

تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی پر قابو پانے کے لیے ایک جامع اور کثیر الجہتی نقطۂ نظر کی ضرورت ہے۔ یہ کچھ اقدامات ایسے ہو سکتے ہیں جن کی مدد سے ایسے کیسز میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔

(i) رپورٹنگ میکانزم کی شفافیت

خفیہ اور درست رپورٹنگ میکانزم قائم کیا جانا چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ رپورٹ کرنے والے افراد نے مسئلے کی حساسیت اور موثر طریقے سے سنبھالنے کی تربیت حاصل کی ہوئی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ہراسانی اور ہراسانی کے جھوٹے الزام کی آڑ میں کسی کو بلیک میل کرنا دونوں ہی قابل گرفت ہوں۔ جیسے ہراساں کیے جانے والے فریق کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، بالکل ایسے ہی یا اس بھی زیادہ منفی اثرات جھوٹے الزام کا سامنے کرنے والے فریق پربھی ہوتے ہیں۔ اس لیے رپورٹنگ میکانزم کا شفاف ہونا انتہائی اہم ہے۔

(ii) اجتماعی شعور کی بیداری

آگاہی مہم چلائی جائے جو کمیونٹی کو اس بارے میں تعلیم دے کہ جنسی ہراسانی کتنی مضر ہے اور اس کی روک تھام کی اہمیت کیا ہے؟ کثیر سامعین تک پہنچنے کے لیے مختلف مواصلاتی چینلز بشمول ورکشاپس اور سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے۔

(iii) واضح اینٹی ہراسمنٹ پالیسی

اینٹی ہراسمنٹ پالیسی، زیرو ٹالرنس کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیے۔ جس کے ساتھ ہراسانی ہو یا جس پر ایسا خواہ مخواہ جھوٹا الزام لگے، دونوں صورتوں میں شفاف تحقیقات کے بعد مجرم کو سزا ملنی ضروری ہے۔ ہمارے نظام انصاف نے ایسے معاملات میں کتنے کیسز کو ان کے انجام تک پہنچایا ہے، اس پر بہر حال سوالیہ نشان موجود ہے۔ اگر ہم نے اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو تحفظ بھی دینا ہے اور ان پر علم کے دروازے بھی بند نہیں ہونے دینے، تو ہمیں ہراسانی بھی روکنی ہیں اور ذاتی رنجش کی بنیاد پر کسی کا استحصال بھی روکنا ہے۔ ورنہ اداروں کو نا قابل تلافی نقصان ہو گا، اور بات اداروں کے نقصان سے آگے نکل کر علم کی شمع کو بجھانے کا سبب بن سکتی ہے۔

(iv) طاقت کے عدم توازن کا خاتمہ

طاقت کے عدم توازن کو دور کیا جائے کیونکہ یہ عدم توازن ادارے کا اندر ہراسانی کے واقعات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ بلیک میلنگ کا عمل ادارے میں موجود اختیار و اقتدار کے حامل افراد کرتے ہیں۔ اس لیے ایک محفوظ ماحول کو برقرار رکھنے کے لیے مساوات، شمولیت، اور مشترکہ ذمہ داری کو فروغ دیا جائے۔

(v) ٹیکنالوجی کا استعمال

جنسی ہراسانی کی روک تھام سے متعلق آن لائن وسائل اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد لی جائے۔ مختلف اہل کاروں کے دفاتر کے سامنے والی دیوار ٹرانسپیرنٹ گلاس کی ہونی چاہیے۔ رپورٹنگ ٹولز، اور تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جائے۔

(vi) احتساب کے کلچر کو فروغ

احتساب کے کلچر کو فروغ دیں۔ منصفانہ اور بروقت تحقیقات اور مناسب تادیبی اقدامات کے ذریعے مجرموں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرائیں۔ ادارے میں موجود لوگوں کو یہ بات باور کروائیں کہ ادارہ ایسے الزامات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔

(vii) صنفی مساوات

صنفی مساوات کو فروغ دینا ہو گا۔ ایسے اقدامات اٹھائیں جو روایتی صنفی کرداروں اور دقیانوسی تصورات کو چیلنج کریں۔ ایک ایسے ماحول کو فروغ دیں جہاں تمام افراد کے ساتھ یکساں احترام اور وقار کا سلوک کیا جائے۔

(viii) نگرانی اور تشخیص

ہراسانی کی روک تھام کی حکمت عملی اور متوقع ردعمل کے طریقہ کار کی نگرانی کے لیے میکانزم قائم کریں۔ جنسی ہراسانی پر قابو پانے میں ادارے کی پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ضروری ایڈجسٹمنٹ کریں۔

(ix) رشتوں کے درمیان دوستانہ ماحول کا فروغ

تعلیمی ادارے ہوں یا کوئی اور جگہ جنسی ہراسانی کے کیسز میں خاطر خواہ کمی آ جائے اگر رشتوں کے درمیان دوستانہ ماحول پروان پائے۔ اگر بچوں سے کوئی معمولی غلطی سرزد ہوتی ہے اور وہ والدین یا بڑے بہن بھائیوں کے ڈر سے اس غلطی کو چھپاتے پھرتے ہیں تو پھر ایسی بلیک میلنگ بڑھتی جاتی ہے۔ اس لیے بچوں اور والدین کے درمیان دوستانہ ماحول بہت ضروری ہے تا کہ بچے ان کے ساتھ اپنے مسائل بانٹ سکیں۔

ہندی فلم دریشیام میں والدین اپنی بیٹی کے دوست بن کر اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، جب ان کی بیٹی بتاتی ہے کہ ایک وڈیو کلپ کی بنیاد پر ایک لڑکا اس کو جنسی ہراساں کر رہا ہے۔ بہرحال ایسے جذبوں کا فروغ بہت ضروری ہے۔

تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی پر قابو پانا ایک مسلسل عمل ہے جس میں تعاون، لگن اور مسلسل بہتری کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات کو نافذ کرنے سے اور ساتھ ساتھ احترام اور شمولیت کا کلچر بنانے سے، تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

Farooq Rashid Butt
Farooq Rashid Butthttps://writers.international
Chief Editor of Defence Times and Voice of Pakistan, a defence analyst, patriotic blogger, poet and WordPress web master. The passionate flag holder of world peace

HOT TOPICS

Our Defence Topics Site

Defencce Times

A website of global defence news and pakistan armed forces careers

Latest Articles

پاکستان نے افغانستان کو کلین سویب کر کے ون ڈے رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی

پاکستان کی ٹیم نے افغانستان کو ون ڈے سیریز میں 0-3 سے شکست دے کر ون ڈے میں دوبارہ عالمی نمبر ایک رینکنگ حاصل...

دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار

پنجاب کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام...

آئندہ 48 گھنٹوں میں بجلی کے بلوں میں کمی کیلئے اقدامات کیے جائیں ۔ وزیرِ اعظم

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مہنگی بجلی کے خلاف عوام کے ملک گیر احتجاج کے خلاف طلب کردہ ہنگامی اجلاس میں آئندہ 48 گھنٹوں...

پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا، فوج اور عوام متحد تھے اور متحد رہیں گے – جنرل عاصم منیر

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ منعقد کی گئی جس میں پاک فوج کے دستوں نے مادر وطن کے شہدا کو خراج عقیدت...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here