مہاجر قومیت کا بیانیہ اور فرمودات جناح – بصیر نوید

سندھ میں کئی دہائیوں سے بس جانے اور اپنی املاک بنانے کے باوجود بھی خود کو مہاجر کہلانا دراصل انکار وطن ہے، انڈیا میں بھی ہم لوگ مختلف ممالک سے بہتر روزگار اور تحفظ کی خاطر آباد ہوئے تھے

جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں، ملک کی فضا مختلف سیاسی نعروں اور منشور کی آوازوں سے تبدیل ہونے لگ گئی ہے۔ ہر سیاسی گروہ نے ایسے نعروں کو بلند کرنا شروع کر دیا جو ان کے آئندہ کے عزائم کو واضح کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر (اس لفظ کو بیشتر نیوز کاسٹر اور اینکر پرسن کنوینیئر کہتے ہیں۔) جناب خالد مقبول صدیقی نے بیان دیا کہ “ہم قائد اعظم کے پاکستان میں آئے تھے، ہمیں بھٹو کے پاکستان میں کس نے دھکیلا؟ ہم قائد کے بنائے گئے ملک کے دارالحکومت کراچی میں آئے تھے، ہمیں صوبہ سندھ میں کسی نے دھکیلا؟”

آگے چل کر کہتے ہیں، “جو خالق ہوتا ہے اس کی مجبوری ہوتی ہے، اپنی تخلیق سے محبت کرنا۔ ہماری محبت ملک سے فطری ہے، لگا دو فتویٰ۔ پاکستان ہماری مجبوری، کمزوری اور ہمارے بزرگوں کی امانت بھی ہے۔ ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے اور چنوانے والوں کو علم ہو گیا ہے کہ دیوار کو اٹھانے والے کاندھے ہمارے ہی ہیں۔ جو ملک بناتا ہے، وہی چلا سکتا ہے۔ اس ملک کو چلانے کا فیصلہ ہوا تو تیاری کیجئے ہمارے علاوہ اس کو کوئی نہیں چلا سکتا۔ اس ملک کو چلانے کے لئے ہمارے سوا کوئی آپشن نہیں۔”

ایم کیو ایم کا کوئی بھی گروہ ہو ان کا زعم ختم نہیں ہوتا کہ پاکستان انہوں نے یا انڈیا خاص کر یو پی اور سی پی سے آنے والے ”مہاجرین“ نے بنایا ہے اور وہ اس کے خالق ہیں۔ یہ ذکر کرتے ہوئے انہوں نے جس صوبے میں پناہ لی، اسی کے خلاف بات کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جیسے کراچی ان کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ یعنی اگر کراچی ان کے ورود مسعود سے قبل وجود رکھتا تھا تو ایک ویرانہ تھا جہاں نہ تعلیم تھی، نہ صنعتیں، بس ان کے آنے سے کراچی ایک شہر بن گیا۔

یاد رہے، فلسطین پر قابض صہیونی بھی مقبوضہ علاقوں کے بارے میں یہی جھوٹا تاثر پھیلاتے رہتے ہیں۔ میں بھی ان ہی خاندانوں سے تعلق رکھتا ہوں جو ترک وطن کر کے سندھ میں آئے تھے اور میرا تعلق بھی قیام پاکستان کے بعد کی پہلی نسل سے ہے۔ اس بنا پر میں انہیں چند حقائق سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ اول تو یہ کہ بقول ڈاکٹر مہدی حسن کے (جو خود بھی اردو بولنے والے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے بزرگ پانی پت کے خواجگان کہاتے تھے)۔

“ہم مہاجر نہیں بلکہ تارک وطن ہیں کیونکہ ہم بقائمی ہوش و حواس اپنا پہلا وطن ترک کر کے پاکستان آئے تھے اور اس پاکستان کو اپنا نیا وطن بنایا تھا”۔

دوئم، قائد اعظم مسلمانوں کی پاکستان ہجرت کی سخت مخالف تھے بلکہ یہاں تک کہا تھا کہ ”یہاں آپ کو کروڑوں مسلمانوں کی خدمت کرنی ہے“ ۔ ان کی اس تلقین کا بھی ایک تاریخی پس منظر ہے۔ 3 جون 1947 کو ڈیفنس کونسل کا اجلاس ہوا جس میں ہندوستان کی دو ریاستوں پنجاب اور بنگال کے، کچھ علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت کی بنیاد پر بٹوارے جبکہ سلہٹ اور موجودہ صوبہ پختونخوا میں ریفرنڈم کا فیصلہ کیا گیا۔ اسی فیصلے میں کہا گیا کہ صرف متفق بہ یعنی ”ایگریڈ“ علاقوں میں ہجرت ہوگی اور ”ان ایگریڈ“ علاقوں کے تعین اور سلہٹ و پختونخوا میں ریفرنڈم کے لئے ریڈ کلف کی ماتحتی میں کمیٹی بنائی گئی۔

پنجاب کو ”ایگریڈ“ علاقہ قرار دینے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ایگریڈ علاقوں میں آبادی کی منتقلی یعنی ٹرانسفر آف پاپولیشن ہوگی اور دونوں حکومتوں کو پابند کیا گیا کہ وہ منتقل ہونے والی آبادیوں کی دیکھ بھال کریں گے۔ جبکہ غیر متفق بہ یعنی ”نان ایگریڈ“ علاقوں میں کوئی انتقال آبادی نہیں ہو گا جن میں خاص طور پر یو پی، بہار، گجرات وغیرہ سمیت کچھ اور صوبوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ سوئم۔ جناح صاحب نے ہجرت کی برملا مخالفت کی تھی۔

یہ واقعہ بھی 7 اگست 1947 کا ہے، جب قائداعظم پاکستان آرہے تھے۔ دہلی ائرپورٹ پر انہیں رخصت کرنے چوہدری خلیق الزماں، حسین امام، اور راجہ صاحب محمود آباد سمیت دیگر زعما بھی آئے تھے۔ وہیں لیاقت علی خان بھی موجود تھے۔ جناح صاحب نے کراچی روانگی سے قبل خطاب کرتے ہوئے دیگر مسائل کے علاوہ خاص طور پر ہجرت کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں تقسیم شدہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ بہترین مسلم لیگی ہیں، آپ میں سے کوئی پاکستان نہیں آئے گا، آپ کو یہاں (ہندوستان) میں کروڑوں مسلمانوں کی خدمت کرنی ہے، یاد رکھو کوئی بھی ملک غدار وطن کو پسند نہیں کرتا۔ اس لئے آپ سے کہتا ہوں کہ آپ نے ہندوستان میں رہنا ہے اور اس کا وفادار ہو کر رہنا ہے، بٹوارے والے علاقوں میں آبادی کی منتقلی کا فارمولا طے ہو گیا ہے اس لیے انہی علاقوں میں آبادی کی منتقلی ہوگی۔ (اس واقعے کی تفصیل چوہدری خلیق الزماں کی تصنیف Pathway to Pakistan میں دیکھی جا سکتی ہے۔)

دوسرے دن یعنی 8 اگست کو ٹائمز آف انڈیا میں یہ تقریر شائع ہوئی اور اس کے ساتھ ایک کارٹون شائع ہوا جس میں قائد اعظم خطاب کر رہے ہیں اور لیاقت علی خان پریشان حال اور حیرانی میں منہ کھولے کھڑے ہیں۔ یہ کارٹون اس لئے بنایا گیا کہ لیاقت علی خان ہجرت کے زبردست حامی تھے چونکہ مسلم اقلیتی صوبوں سے مسلم لیگ کی جو قیادت پاکستان منتقل ہو رہی تھی اس کا کوئی حلقہ انتخاب نہیں تھا۔ چنانچہ لیاقت علی خان چاہتے تھے کہ بھاری تعداد میں ہندوستان بھر سے مسلم آبادی کی منتقلی ہو۔

ہجرت سے متعلق اور بھی بہت سارے شواہد ہیں جن کے باعث مسلم لیگی قیادت میں مختلف آراء رہی ہیں۔ بالآخر اپریل 1950 میں نہرو لیاقت پیکٹ وجود میں آیا جس کے تحت دونوں ملکوں میں ہجرت روک دی گئی۔

مگر غیر قانونی ذرائع سے ہجرت جاری رہی بلکہ ایک زمانے میں کراچی میں ایسے لوگ بھی اراکین اسمبلی منتخب کروائے گئے جو بھارت سے صرف چند ماہ قبل پاکستان آئے تھے کیونکہ ایم کیو ایم اس وقت حاکم تھی۔ علاوہ ازیں یہ کہاں سے ثابت ہوتا کہ ہجرت کرنے والوں نے پاکستان بنایا تھا۔ ہاں! البتہ مہاجروں کی پاکستان آمد خاص طور پر ان کا اپنا فیصلہ تھا، جن علاقوں سے آئے تھے، وہاں فسادات نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ جس صوبے سندھ میں وہ اپنا حق جتاتے ہیں وہ ہی پہلا صوبہ تھا جس نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ سندھ نے بھی اس لئے ووٹ دیا تھا کہ قائد اعظم کی جانب سے سائیں جی ایم سید سے ایسی درخواست کی گئی تھی کیونکہ 1937 کے انتخابات میں مسلم لیگ نے ایک بھی نشست نہیں جیتی تھی اور لارڈ لنلتھگو ہمیشہ طعنے دیتا تھا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد تنظیم کہلاتی ہے مگر سندھ میں ایک بھی سیٹ جیت نہ سکی۔

اسی صوبہ سندھ کی قرارداد کے باعث ہندوستان سے ہجرت ممکن ہو سکی۔ مگر یہ لوگ ایک ہی دھن میں لگے ہیں کہ سندھ کو تقسیم کر دیا جائے اور کراچی کو سندھ سے جدا کر دیا جائے۔ مزید برآں ہجرت کے لیے سندھ کا انتخاب بھی انہوں نے خود کیا تھا کسی نے زبردستی انہیں یہاں نہیں بھیجا تھا۔ ہمارے خیال میں سندھ میں ہجرت کرنے کی چند اہم وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ تو یہ تھی کہ کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا۔ دوسرے وہ اپنے ساتھ یہ تاثر لے کر آئے تھے کہ سندھی کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں چنانچہ ہم جاکر ساری نوکریوں پر قبضہ کر لیں گے۔ تیسری وجہ سندھ میں جاکر مختلف اراضیوں کے لٹ جانے کے عوض کلیم داخل کرنا۔ وجہ بھی صاف تھی کہ لیاقت علی خان سمیت انڈیا سے آنے والی بیوروکریسی اپنے لوگوں کو آبادکاری اور متروکہ املاک میں مدد دینے میں پیش پیش رہے گی۔ چوتھی وجہ، سندھی صوفی منش اور مہمان نواز ہیں اس لیے آبادکاری میں کوئی مزاحمت نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ بہت سی دیگر وجوہات بھی تھیں۔ لیکن یہ دعوٰی کہ ہجرت کرنے والے پاکستان کے خالق ہیں اور خالق ہی اس ملک کو چلانے سکتے ہیں، ایک خام خیالی ہے۔

ایسا ہی دعوٰی سابقہ مشرقی پاکستان میں بھی کیا گیا تھا جہاں سے انہیں بھاگنا پڑا۔ اتفاق سے اس وقت وہ ملک ہم سے دو گنا ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ یہاں پر یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ ملک تو نہیں البتہ کراچی اور حیدرآباد جب فوجی طاقت نے ان کے حوالے کیا تو 35 سال تک سندھ کے شہری علاقے قتل و خون، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، بوری بند لاشوں، زمینوں پر قبضے، اور گالم گلوچ کی بدترین آماجگاہ بنے رہے۔ اگر پورا ملک ان کو دے دیا جائے تو تصور کریں کیا حشر ہو گا۔

سندھ میں کئی دہائیوں سے بس جانے اور اپنی املاک بنانے کے باوجود بھی خود کو مہاجر کہلانا دراصل انکار وطن ہے، انڈیا میں بھی ہم لوگ مختلف ممالک سے بہتر روزگار اور تحفظ کی خاطر آباد ہوئے تھے مگر انکار وطن کی بے چین طبیعت کے باعث ہم نے ہندووں اور سکھوں سے نفرت کی اور تقسیم ہندوستان کا فریضہ انجام دیا کیونکہ ہم انکار وطن پر یقین رکھتے ہیں۔ ان عناصر کو یاد رکھنا ہو گا کہ ترک وطن کے فیصلے کا واضح مطلب اپنے نئے مستقر کودل سے قبول کرنا اور اس کی دھرتی کی عزت کرنا ہوتا ہے۔ مگر ایم کیو ایم کی طرف سے نئی راگنی چھیڑنے سے لگتا ہے کہ سندھ کو پھر سے طویل عرصے کے لئے کسی قیامت سے گزارنے کا ارادہ باندھا جا رہا ہے۔

LATEST POSTS

Defence Times

A website of global defence news and Pakistan armed forces career

CURRENT AFFAIRS

Farooq Rashid Butt
Farooq Rashid Butthttps://writers.international
Chief Editor of Defence Times and Voice of Pakistan, a defence analyst, patriotic blogger, poet and WordPress web master. The passionate flag holder of world peace

BREAKING NEWS

پاکستان نے افغانستان کو کلین سویب کر کے ون ڈے رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی

پاکستان کی ٹیم نے افغانستان کو ون ڈے سیریز میں 0-3 سے شکست دے کر ون ڈے میں دوبارہ عالمی نمبر ایک رینکنگ حاصل...

دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار

پنجاب کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام...

آئندہ 48 گھنٹوں میں بجلی کے بلوں میں کمی کیلئے اقدامات کیے جائیں ۔ وزیرِ اعظم

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مہنگی بجلی کے خلاف عوام کے ملک گیر احتجاج کے خلاف طلب کردہ ہنگامی اجلاس میں آئندہ 48 گھنٹوں...

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here