وہ ایک زمانہ اور وہ عہد اب ختم ہو چکا ہے – محمد حمید شاہد

ناصر عباس نیر نئی تنقید میں اپنی شناخت مستحکم کرنے کے بعد ، مابعد جدید تنقیدی مباحث اور لسانیات سے لے کر اردو ادب کی تشکیل جدید اور مابعد نو آبادیاتی ادب پر اپنے خیالات میں ہمیں الجھا پاکر کوئی چھے برس پہلے اچانک اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”خاک کی مہک“ لے کر آ گئے تھے۔ یہ مجموعہ اردو کی ادبی دنیا کے لیے اچانک آ لینے والی اور حیرت زدہ کرنے والی خبر بن گیا تھا۔ میں اس پر حیران نہ تھا کہ وہ تنقید اور تھیوری کے مباحث کی گرد اڑاتے اڑاتے اس جانب کیسے نکل آئے تھے کہ ایک صنف میں نام کما کر دوسری صنف میں بھی کچھ کر دکھانے والوں کی لائق توجہ فہرست موجود تھی۔ میری حیرت کا سبب دوسرا تھا ؛ اور وہ تھا کہانی کہنے کا جداگانہ آہنگ۔ ایسی کہانیاں جو کوئی اور افسانہ نگار چاہتا بھی تو نہیں لکھ سکتا تھا۔

میں یہ جانتا تھا کہ ایک زمانے میں وزیر آغا صاحب کی قربت کے سبب ناصر عباس نیر نے انشائیے لکھے تھے اور اس ناصر کی شخصیت بھی نگاہ میں رہی جس نے اپنی تنقیدی قامت یوں بڑھائی کہ اس میدان میں مرکز نگاہ ہوچکے ہیں۔ اگر نہیں جانتا تھا تو یہ کہ ان کی تنقیدی بصیرت سے ایک روز تخلیقی ذکاوت اور ذہانت کرشمہ ہو کر یوں پھوٹے گی کہ کہانی کا رنگ ڈھنگ بدل جائے گا۔ گزشتہ چند برسوں میں ناصر کے افسانوں کے چار مجموعے شائع ہوئے ہیں ؛ ”خاک کی مہک“ ، ”فرشتہ نہیں آیا“ ، ”راکھ سے لکھی گئی کتاب“ اور ایک زمانہ ختم ہوا ہے ”“

افسانوں کے پہلے مجموعے ”خاک کی مہک“ کے آغاز میں ”کہانی کا کوہ ندا“ کے عنوان سے ایک افسانہ موجود ہے اور یہیں سے ان کے فکشن کا مزاج متعین ہوجاتا ہے۔ میں نے اس کہانی کے سر احمد کو ہر بار ناصر عباس نیر کے وجود میں دیکھا تھا۔ ایسا ہی اس مجموعے کا نام پا لینے والے افسانے ”خاک کی مہک“ میں ہوا۔ اس افسانے کی ابتدائی سطور مقتبس کرتا ہوں :

”افسانہ نگار بننے سے پہلے کچھ باتوں کا علم تو خیر دور کی بات ہے، اندازہ بھی نہیں ہوتا۔ افسانہ نگار بننے سے پہلے کی حالت اور بعد کی صورت حال میں وہ شخص فرق کر سکتا ہے، جس نے دو جنم لیے ہوں یا جسے دو قسم کی زندگیاں گزارنے کا تجربہ ہوا ہو۔ مثلاً پہلے مرد رہا ہو، پھر عورت بن کر جینے لگے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک اندھا رہا ہو، پھر اچانک اسے آنکھیں مل گئی ہوں۔ ویسے تو آدمی سے کیڑا بننا بھی دوسری زندگی شروع کرنا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر کچھ بننا ضروری ہو، اور تھوڑا بہت اختیار بھی ہو تو آدمی، کیڑا کیوں بنے، چیل، چکور، چیتا کیوں نہ بنے، تا کہ دنیا کو دنیا سے ذرا ایک چھلانگ کے فاصلے سے تو دیکھ سکے۔ یوں بھی دوسری زندگی چھلانگ کی مانند ہونی چاہیے۔ ایک بات تو میں بھولے ہی جا رہا ہوں۔

دوسری زندگی میں پہلی زندگی کی یاد رہنی چاہیے۔ تبھی آدمی دو زندگیاں جی سکے گا۔ اس طرح آدمی کو دیکھنے کے لیے چار آنکھیں مل جاتی ہیں۔ اچھا افسانہ لکھنا کے لیے تو دس آنکھیں بھی کم ہیں۔“

لطف کی بات یہ ہے کہ ہمہ جہت مطالعہ، گہرا تنقیدی شعور اور تجزیاتی ذہن، اس دوسری زندگی میں یعنی افسانہ لکھتے ہوئے ناصر کے لیے ان گنت آنکھوں کی طرح ہو جاتے رہے ہیں۔ 2020 ء میں سنگ میل لاہور سے شائع ہونے والے افسانوں کے مجموعے ”ایک زمانہ ختم ہوا ہے“ کا انتساب ہمارے مشترکہ دوست اور افسانہ نگار آصف فرخی کی یاد کے نام ہے۔ میں نے یہ انتساب پڑھا تو کتاب کا نام پھر سے ذہن میں گونجنے لگا تھا: ”ایک زمانہ ختم ہوا ہے“ یہ نام انہوں نے مجید امجد سے مستعار لیا ہے۔

گویا یہ ناصر کا آصف فرخی اور مجید امجد سے تعلق اور ایسی نسبت کا اعلان ہے جس کا اختتام، ایک زمانہ ختم ہونے کے بعد بھی، نہیں ہوتا۔ اس مجموعے کے افسانے پڑھتے ہوئے آپ محسوس کریں گے کہ ناصر کا فکشن بھی انسانوں کے باہمی تعلق کی لطیف پرتوں تک رسائی ہو گیا ہے ؛ جی، ان پرتوں اور سطحوں تک رسائی جن کی طرف بالعموم ہمارے ہاں فکشن لکھنے والے متوجہ نہیں رہے ہیں۔

اس مجموعے میں ناصر کے بارہ افسانے شامل ہیں ؛ ”تمہارا قانون“ ، ”اسے کسی عورت نے جنم نہیں دیا“ ، ”ملبے کا بزنس“ ، ”یاد اور بھول کا کھیل“ اور ”کہانی ایک پر کی“ جیسے افسانوں میں ہمہ دان راوی سے ماجرا روایت کیا گیا ہے۔ ”ہر آدمی ہر کام کر سکتا ہے“ ، ”خواب سگاں“ ، ”غارت گر“ اور ”قصہ کتابوں کے قبرستان کا “ میں واحد متکلم راوی بھی ہے اور افسانے کا مرکزی کردار بھی۔ ”مرگ عام نعمت ہے“ کے پہلے حصے کا راوی خدائی نظر رکھتا ہے کہ وہ کہانی میں خود کہیں نہیں ہے لیکن اسی افسانے کے آخری حصے کا راوی کہانی کا کردار ہو گیا ہے۔

اسی طرح ایک اور افسانہ ہے ؛ ”آخری تحریر“ ۔ اس میں سارا ماجرا واحد متکلم یعنی راوی/ کردار سے روایت ہوا ہے مگر آخری سطر میں ہمہ دان قاری کہیں سے آ کر ہمیں بتاتا ہے کہ نفیس یعنی راوی کردار کی بیوہ آنسوؤں کے ساتھ اپنے مرحوم شوہر کی ڈائری پڑھ رہی تھی؛ یوں ہم وہ منظر بھی دیکھ لیتے ہیں جو ہمیں مر جانے والا راوی نہیں دکھا سکتا تھا۔ یہ کہانیاں روایت ہوتے وقت خیال کے بہاؤ کے ساتھ پھیلتی بکھرتی ہیں ؛ کچھ یوں کہ واقعات اور کردار آتے ہیں اور دھندلے ہو کر کسی خیال یا احساس کے عقب میں چلے جاتے ہیں۔ کسی مرکزی احساس اور خیال کا دھاگہ پورے متن میں ایک ربط قائم کرتا رہتا ہے جس سے کہانی کی ہیئت قائم ہو جاتی ہے۔

اس مجموعے کی لگ بھگ سب کہانیوں میں کردار نگاری الگ سے لائق توجہ نہیں رہی ہے۔ منظر نگاری کا بھی الگ سے اہتمام نہیں ہوا مگر بیانیہ جس آہنگ میں مرتب ہوا ہے اس کے اندر ماحول بھی سجھائی دینے لگتا ہے اور کرداروں کی شباہت بھی جھلک دے جاتی ہے۔ ناصر کے فکشن کا بنیادی سروکار انسانی وجود کے اندر کی اتھل پتھل رہی ہے ؛ خیالات، اندیشے، وسوسے اور دماغ کی ایسی سنسناہٹ جو انسانی روح کو بے چین رکھتی ہے۔ اس آئینے میں جتنا باہر دیکھا جاسکتا تھا، بس اتنا ہی متن کا حصہ ہوا ہے ؛ کم نہ زیادہ۔

انسانی روح کی آزادی کا سوال ان افسانوں کے بکھرے خیالات کے مرکز میں اس دھاگے کا کام کرتا رہا ہے جس کی طرف میں اوپر اشارہ کر آیا ہوں۔ آپ نے ان کے پہلے مجموعے میں شامل افسانے ”کفارہ“ کے ایک کردار خداداد کے سوچے ہوئے یہ جملے پڑھے ہوں گے : ”روح کی رہائی کے محضر پر کون دستخط کرتا ہے؟ کیا میری مصیبت ختم ہو سکتی ہے؟“

روح کی آزادی کا سوال اور انسانی وجود کے لیے نہ ختم ہونے والی اذیتوں اور مصیبتوں میں گرفتار کردار چوتھے مجموعے تک ہر افسانے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً افسانہ ”تمہارا قانون“ کے قیدی کے لیے موت کوئی معنی نہیں رکھتی وہ عدالت کا مضحکہ اڑاتا تھا اور پولیس اور جج کے سامنے قہقہے لگاتا تھا کہ اس کی نظر میں قانون اپنا کام نہیں کر رہا اور اس سے ظلم کو زیادہ منظم اور جائز بنانے کا کام لیا جانے لگا تھا اور یہ ایسی بھدی کامیڈی تھا جس پر قہقہہ ہی لگایا جاسکتا تھا۔

ہر افسانہ نگار اپنی کہانی کا خدا ہوتا ہے وہ چاہے تو اپنے قاری کو رلا دے چاہے تو اس کے اندر سے موت کا خوف نکال کر قہقہے لگانے پر اکسائے۔ میلان کنڈیرا نے ”دی آرٹ آف ناول“ میں ایک کہاوت یوں نقل کر رکھی ہے ؛ ”انسان سوچتا ہے اور خدا مسکراتا ہے“ ۔ ناصر کی کہانیوں کے کردار اپنی اذیتوں پر رلاتے نہیں، خدائی حوصلہ ہتھیا کر مسکراتے اور قہقہے اچھالتے ہیں اور کہیں کہیں ہمیں بھی قہقہے اچھالنے پر مجبور کرتے ہیں۔

اسی افسانے میں جب سنتری نے قیدی سے سوال تھا کہ کیا تمہارے بچے ہیں، بوڑھے ماں باپ ہیں؟ اور کہا تھا کہ اپنے بچوں کے مرنے کا خوف سب کچھ کراتا ہے۔ یہ خوف کہ بچے بھوک سے مر گئے تو کیا ہو گا؟ بھوک کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی پڑتے ہیں۔ تم بھی ڈالو گے ایک دن۔ آج نہیں تو کل۔ تو قیدی کا جواب تھا: ”تم آدمی کی زخمی روح کی طاقت سے ناواقف ہو مورکھ۔“

اس زخمی روح سے ہمارا افسانہ نگار واقف ہے اور اپنے افسانوں کی سطر سطر میں اسے نفسیاتی جواز کے ساتھ بنتا رہا ہے۔ ایک اور افسانے ”ہر آدمی ہر کام کر سکتا ہے“ کا ایک جملہ ہے : ”کاغذ انسانی یادداشت پر بداعتمادی کا سب سے بڑا مظہر ہے اور اس دنیا کے خلاف سب سے خطرناک گواہ ہے۔“

ناصر عباس نیر کے افسانے ہماری زخمی روح کو اس پہلووں سے سامنے لاتے ہیں جنہیں قصداً انسانی یادداشت سے کھرچا جاتا رہا ہے یا پھر قانون کی پاسداری اور سماجی اقدار کی حرمت کے علاوہ مذہب اور تقدیس کے پردے میں چھپایا جاتا رہا ہے۔ کہہ لیجیے یہ افسانے عام روش سے ہٹ کر کاغذ پر بکھر کر اور ایک الگ سے بیانیے میں سمٹ کر اس سفاک دنیا کے خلاف خطر ناک گواہ بھی ہو گئے ہیں۔

(پندرہویں عالمی اردو کانفرنس منعقدہ کراچی میں پڑھی گئی تحریر)

Farooq Rashid Butt
Farooq Rashid Butthttps://writers.international
Chief Editor of Defence Times and Voice of Pakistan, a defence analyst, patriotic blogger, poet and WordPress web master. The passionate flag holder of world peace

HOT TOPICS

Our Defence Topics Site

Defencce Times

A website of global defence news and pakistan armed forces careers

Latest Articles

پاکستان نے افغانستان کو کلین سویب کر کے ون ڈے رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی

پاکستان کی ٹیم نے افغانستان کو ون ڈے سیریز میں 0-3 سے شکست دے کر ون ڈے میں دوبارہ عالمی نمبر ایک رینکنگ حاصل...

دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار

پنجاب کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ کے مقام...

آئندہ 48 گھنٹوں میں بجلی کے بلوں میں کمی کیلئے اقدامات کیے جائیں ۔ وزیرِ اعظم

نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے مہنگی بجلی کے خلاف عوام کے ملک گیر احتجاج کے خلاف طلب کردہ ہنگامی اجلاس میں آئندہ 48 گھنٹوں...

پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا، فوج اور عوام متحد تھے اور متحد رہیں گے – جنرل عاصم منیر

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ منعقد کی گئی جس میں پاک فوج کے دستوں نے مادر وطن کے شہدا کو خراج عقیدت...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here